طبِ صابر ملتان کے قانونِ مفرد اعضاء میں قبض کی اقسام اور ان کا علاج
قبض ایک عام لیکن بعض اوقات پیچیدہ مسئلہ بن سکتی ہے۔ ہر شخص میں قبض کی علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کسی شخص کو کئی دن تک پاخانہ نہیں آتا، کسی کا پاخانہ سخت یا خشک ہوتا ہے، جبکہ بعض افراد کو بار بار حاجت محسوس ہوتی ہے لیکن پیٹ پوری طرح صاف نہیں ہوتا۔
طبِ صابر ملتان کے قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق قبض کو صرف ایک بیماری کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ مریض کی علامات، نظامِ ہضم کی کیفیت، زبان کے رنگ، پیشاب کی کیفیت، جسمانی علامات اور غذائی عادات کو سامنے رکھتے ہوئے قبض کی مختلف اقسام بیان کی جاتی ہیں۔
اس مضمون میں قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق قبض کی تین اقسام یعنی عضلاتی قبض، غدی قبض اور اعصابی قبض، ان کی علامات، اسباب، علاج اور غذائی پرہیز تفصیل سے بیان کیے جا رہے ہیں۔
«اہم نوٹ: یہ مضمون طبِ صابر ملتان اور قانونِ مفرد اعضاء کے روایتی نظریے کے مطابق معلومات کے لیے ہے۔ یہ جدید طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ مسلسل، شدید یا غیر معمولی قبض کی صورت میں مستند معالج سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔»
1۔ عضلاتی قبض
قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق عضلاتی قبض میں قبض کے ساتھ معدے اور آنتوں کی ایسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں جو اس کیفیت کی شناخت میں مدد دیتی ہیں۔
عضلاتی قبض کی علامات
اس قسم کی قبض میں درج ذیل علامات بیان کی جاتی ہیں:
- پیٹ میں گیس بننا
- بدہضمی
- دائمی قبض
- آنتوں اور معدے کے مسائل
- معدے میں تیزابیت
- پیٹ میں بھاری پن یا بے آرامی
- زبان کا رنگ پرپل یا جامنی مائل ہونا
- پیشاب کا رنگ سرخی مائل پیلا ہونا
اگر قبض کے ساتھ یہ علامات بھی نمایاں ہوں تو قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق عضلاتی قبض کی کیفیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
عضلاتی قبض کے اسباب
اس نظریے کے مطابق عضلاتی قبض کی ایک اہم وجہ غذاؤں کا غلط یا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے، خصوصاً:
- کھٹی چیزوں کا زیادہ استعمال
- تیز مصالحہ دار غذاؤں کا کثرت سے استعمال
- بہت زیادہ مرچ مصالحہ
- ایسی غذاؤں کا مسلسل استعمال جو معدے میں تیزی پیدا کریں
غذائی بے اعتدالی کے نتیجے میں نظامِ ہضم متاثر ہو سکتا ہے اور قبض کی شکایت پیدا یا بڑھ سکتی ہے۔
عضلاتی قبض کا علاج
اجزاء
- سنا مکی — 100 گرام
- تیز پات — 100 گرام
دونوں اجزاء کو صاف کرکے باریک پیس لیں اور اچھی طرح مکس کر کے محفوظ کر لیں۔
مقدار اور طریقۂ استعمال
مقدار: آدھا چائے کا چمچ
طریقہ: نیم گرم پانی کے ساتھ دن میں 3 مرتبہ کھانے کے بعد استعمال کیا جائے۔
سنا مکی جلابی اثر رکھنے والی دوا ہے، اس لیے اسے غیر ضروری طور پر طویل عرصے تک استعمال کرنے کے بجائے معالج کی نگرانی میں استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے۔
عضلاتی قبض میں پرہیز
قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق عضلاتی قبض میں خوراکی پرچے میں موجود عضلاتی غذاؤں سے پرہیز کیا جاتا ہے اور غدی غذاؤں کو استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
---
2۔ غدی قبض
غدی قبض کی کیفیت بعض اوقات عام قبض سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ اس میں پاخانہ مکمل طور پر بند ہونے کے بجائے ٹوٹ ٹوٹ کر آ سکتا ہے اور مریض کو بار بار حاجت محسوس ہو سکتی ہے۔
غدی قبض کی علامات
قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق غدی قبض میں درج ذیل علامات بیان کی جاتی ہیں:
- پاخانہ ٹوٹ ٹوٹ کر آنا
- دن میں متعدد مرتبہ پاخانہ آنا
- پاخانے کے باوجود پیٹ مکمل صاف نہ ہونے کا احساس
- پیٹ میں مروڑ
- پیٹ میں سدہ یا رکاوٹ محسوس ہونا
- ہاتھوں اور پاؤں میں جلن
- پیشاب کا رنگ زرد ہونا
- زبان کا رنگ سرخ ہونا
ان علامات میں سے کئی علامات اگر بیک وقت موجود ہوں تو قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق غدی قبض کی کیفیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
غدی قبض کے اسباب
اس نظریے کے مطابق غدی قبض میں جگر اور غدی نظام کی کیفیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
اس کے بیان کردہ اسباب میں شامل ہیں:
- جگر کی سوزش
- مرغن غذاؤں کا زیادہ استعمال
- گرم چیزوں کا زیادہ استعمال
- چکنائی والی اور بھاری غذاؤں کا کثرت سے استعمال
غدی قبض کا علاج
اجزاء
- سہاگہ بریاں — 20 گرام
- ملٹھی پاؤڈر — 30 گرام
- گلِ بنفشہ — 30 گرام
تمام اجزاء کو باریک پیس کر اچھی طرح مکس کر لیں۔
مقدار اور طریقۂ استعمال
مقدار: آدھا سے ایک چائے کا چمچ
طریقہ: پانی کے ساتھ دن میں 3 مرتبہ کھانے کے بعد استعمال کیا جائے۔
یہاں خاص طور پر سہاگہ بریاں استعمال کیا جاتا ہے۔
غدی قبض میں پرہیز
قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق غدی قبض میں خوراکی پرچے میں موجود غدی غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے اور اعصابی غذاؤں کو استعمال کرنا چاہیے۔
اس نظریے کے مطابق غذا کو علاج کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے نسخے کے ساتھ مناسب غذائی پرہیز بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
---
3۔ اعصابی قبض
قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق اعصابی قبض میں قبض کے ساتھ جسم میں بلغم، نزلہ، سستی اور رطوبت کی زیادتی جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
اعصابی قبض کی علامات
اعصابی قبض میں درج ذیل علامات بیان کی جاتی ہیں:
- جسم میں بلغم کی زیادتی
- دائمی نزلہ
- سستی اور کاہلی
- زبان کا رنگ سفید ہونا
- پیشاب کا رنگ سفید مائل ہونا
- پیشاب کی مقدار زیادہ ہونا
- جسم میں رطوبتی کیفیت محسوس ہونا
اعصابی قبض کے اسباب
اس نظریے کے مطابق اعصابی قبض میں ایسی غذاؤں کا زیادہ استعمال اہم سبب سمجھا جاتا ہے جو بلغم اور رطوبت میں اضافہ کریں۔
ان میں خاص طور پر:
- دودھ سے بنی غذاؤں کا زیادہ استعمال
- لیس دار چیزوں کا زیادہ استعمال
- مٹھائی اور میٹھی چیزوں کا زیادہ استعمال
- ٹھنڈی چیزوں کا زیادہ استعمال
شامل ہیں۔
اعصابی قبض کا علاج
اجزاء
- کالا دانہ — 50 گرام
- کالی ہریڑ بریاں — 50 گرام
یہاں کالا دانہ استعمال کیا جائے گا، کلونجی نہیں۔
کالی ہریڑ بریاں کرنے کا طریقہ
کالی ہریڑ کو پین میں ڈالیں۔ اس میں ایک چمچ روغن زرد، دیسی گھی یا روغنِ زیتون شامل کریں اور ہلکی آنچ پر تھوڑا سا فرائی کریں۔
اس کے بعد کالی ہریڑ کو ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر باریک پیس لیں۔
اب کالی ہریڑ بریاں اور کالا دانہ دونوں کو باریک پیس کر اچھی طرح مکس کر لیں۔
اس مرکب کے 1000 ملی گرام کے کیپسول بھر لیے جائیں۔
مقدار اور طریقۂ استعمال
مقدار: ایک کیپسول
طریقہ: صبح، دوپہر اور شام ایک ایک کیپسول نیم گرم پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
اعصابی قبض میں پرہیز
قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق اعصابی قبض میں خوراکی پرچے میں موجود اعصابی غذاؤں سے پرہیز کیا جاتا ہے اور عضلاتی غذاؤں کو استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
---
تینوں اقسام کا آسان خلاصہ
قانونِ مفرد اعضاء میں قبض کے علاج کا بنیادی اصول
طبِ صابر ملتان کے قانونِ مفرد اعضاء میں قبض کا علاج صرف جلاب استعمال کرنے تک محدود نہیں سمجھا جاتا بلکہ قبض کی نوعیت اور ساتھ موجود علامات کو دیکھنا بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے عضلاتی، غدی اور اعصابی قبض کے لیے الگ الگ علامات، اسباب، نسخے اور غذائی پرہیز بیان کیے جاتے ہیں۔
یعنی پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قبض کس کیفیت سے متعلق ہے، پھر اسی کے مطابق دوا اور غذا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
اہم احتیاط
قبض کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں اور ہر قبض کو صرف مزاج یا ایک ہی قسم سے منسوب کرنا درست نہیں۔ اگر قبض مسلسل رہتی ہو، علاج کے باوجود بہتر نہ ہو، پاخانے میں خون آئے، شدید پیٹ درد ہو، مسلسل قے ہو یا وزن بلاوجہ کم ہو رہا ہو تو مستند ڈاکٹر یا حکیم سے مکمل معائنہ کروانا چاہیے۔
اسی طرح سنا مکی جیسے جلاب کو طویل عرصے تک خود سے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
نوٹ: اس مضمون میں بیان کردہ عضلاتی، غدی اور اعصابی قبض کی درجہ بندی اور علاج طبِ صابر ملتان کے قانونِ مفرد اعضاء کے روایتی نظریے کے مطابق پیش کیے گئے ہیں۔ انہیں جدید طب میں قبض کی سائنسی درجہ بندی یا ثابت شدہ علاج کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔



